سردیوں مجهے ہمیشہ سے ہی نا پسند رہی ہیں. میں شاید خود دسمبر کی پیدائش ہوں اس لئے بهی...
لیکن خزاں کا موسم ہمیشہ سے ہی میرے دل کے بہت قریب رہا ہے. جب کسی کا گرم ہاتھ میرے یخ ٹهنڈے ہاتهوں میں نہ بهی ہو ۔۔۔توکوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ، سردی کو اپنے اندر اتارنے کی ناکام کوشش کرنا، سوکهے پتوں پہ چلتے، درختوں پہ اداسی پہنے پیلے پتوں کو لٹکتے دیکهنا، مجهے ہمیشہ سے ہی اچها لگتا آیا ہے!
گو کے اداسی بهرے اس موسم میں ہر گرنے والا پتہ ہمیں ایک نئی بہار کی نوید دیتا ہے.
لیکن مجهے پهر بهی اداسی بهرا خزاں کا یہ موسم اس شخص کی ماند لگتا ہے کہ جسکے چہرے پہ اداسیاں بهی کهل کهل اٹهیں!!!
لیکن خزاں کا موسم ہمیشہ سے ہی میرے دل کے بہت قریب رہا ہے. جب کسی کا گرم ہاتھ میرے یخ ٹهنڈے ہاتهوں میں نہ بهی ہو ۔۔۔توکوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ، سردی کو اپنے اندر اتارنے کی ناکام کوشش کرنا، سوکهے پتوں پہ چلتے، درختوں پہ اداسی پہنے پیلے پتوں کو لٹکتے دیکهنا، مجهے ہمیشہ سے ہی اچها لگتا آیا ہے!
گو کے اداسی بهرے اس موسم میں ہر گرنے والا پتہ ہمیں ایک نئی بہار کی نوید دیتا ہے.
لیکن مجهے پهر بهی اداسی بهرا خزاں کا یہ موسم اس شخص کی ماند لگتا ہے کہ جسکے چہرے پہ اداسیاں بهی کهل کهل اٹهیں!!!
تحریر:- فشوا








0 comments:
Post a Comment